لکھنؤ،13فروری(ایس او نیوز/آئی ایس انڈیا)سماج وادی پارٹی میں ملائم اور اکھلیش کا جھگڑا تو ختم ہو گیا لیکن امر سنگھ اور اعظم خان کا جھگڑا ختم نہیں ہو رہا ہے۔اعظم خان نے امر سنگھ پر قابل اعتراض بیانات کی جھڑی لگا دی۔اعظم خان جب امر سنگھ پر حملہ آور ہوئے تو وہ لسانی اقدار کا سامنا کرتے ہوئے تھوڑے بھی ہچکچاہٹ نہیں رہے تھے۔اعظم خان نے امر سنگھ کا نام لئے بغیر ان کے لئے دلال، سانڈ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔امر سنگھ کا بغیر نام لئے اعظم خان نے کہاکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دلے میں میں نے جیسی کھینچی ہے ویسی کسی نے نہیں کھینچی ہے،اس دلے کو اس کی اوقات اور حیثیت میں بھی میں نے ہی رکھا۔اعظم خان نے مزید کہاکہ یہ دلال جہاں جاتا ہے چینل والے اسے ذلیل کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ اعظم خان تمہیں دلال کیوں کہتے ہیں،اس گنجی دلے نے بولا بیل ہوں بیل، ارے بیل ہے تو پھر بھی ہے تو جانور، اگر جانور ہی ہونا تھا اس سانڈ کو تو، سانڈکی خوبی کیا ہوتی ہے جنگل میں کوئی کھیت نہیں دیکھتا کہیں بھی منہ مار دیتا ہے اور پھر ڈنڈوں سے اس کی پٹائی ہوتی ہے، جانور ہی بننا تھا تو وفادار جانور ہوتے جو دروازے پر بیٹھتاہے،کم سے کم میم صاحب امرپالی سے تھکی ہوئی آتیں تو پچکار تو دیتیں، بالوں میں ہاتھ پھیر دیتیں۔اس کے ساتھ ہی اعظم خان نے پی ایم مودی پر بھی حملہ کیا۔انہوں نے ریلی سے کہا کہ کہو وزیر اعظم کہاں ہیں اچھے دن؟ ووٹوں کیلئے بھائی نے بھائی کا قتل کر دیا،بجنور میں ایک قتل ہوا ہے،ہم نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے،ہم نے پولیس سے کہا ہے کہ 15تاریخ سے پہلے قتل کا انکشاف ہونا چاہئے۔آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ 10فروری کو بجنور میں ایک باپ بیٹے پر جان لیوا حملہ ہوا جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔اس قتل کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔اس قتل کو انتخابات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انتخابی ماحول میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے تحت اس قتل کو منظم طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔